April 27, 2024
Science Berg School
Unit_6 The Quaid’s Vision and Pakistan

|
1۔ قیام پاکستان کے
ابتداےئ اور مشکل اوقات کے دوران قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ملک گیر دورہ
کیا۔ ان کا مقڈس لوگوں کے جذبہ کو اُبھارنا تھا، لاہور میں اپنی ایک تقریر میں
اُنہوں نے کہ:
"اپنے
مقصد کی سختی سے مت گھبراؤ! نوجوان قوموں کی تاریخ میں بہت سی مثالیں ایسی ہیں
کہ جب اُنہوں نے اپنے پختہ عزم اور قوتِ کردار سے اپنے آپ کو تعمیر کیا۔ آپ
اعلیٰ ظرف ہو اور کسی سے کم نہیں ہو۔ اپنا حوصلہ بلند رکھو۔موت سے مت گھبراؤ ۔
ہمیں اسلام اور پاکستان کی عزت کو بچانے کے لیے بہادری سے اس کا سامنا کرنا
چاہئے۔اپنا فرض ادا کرو اور پاکستان پر یقین رکھو۔یہ قائم رہنے کے لیے بنا
ہے"۔
|
|
2- بر صغیر کے
مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے لیے عظیم
راہنما کی جدو جہد کے سارے سفر کی بنیاد اسلامی اتحاد اور قومی وحدت کے مرکزی
نقطہ پر تھی۔ وہ پاکستان کے بارے میں ایسی واضح اصطلاحات میں بات کرتے تھے کہ
اُسے عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا
تھا۔ پاکستان کی پیدائش سے تین سال پہلے اُنہوں نے بڑے پر زور انداز سے واضح کیا
کہ "اپنی مخصوص تہذیب اور ثقافت، زبان اور ادب،فنون ِلطیفہ اور طرزِ تعمیر،
نام اور نام رکھنے کے طریقوں،اقدار اور وراثت کی سمجھ بوجھ،قوانین اور اخلاقی
ضابطے،رواج اور کیلنڈر، تاریخ اور روایات،رجحانات اور خواہشات کے لحاظ سے
ہم ایک قوم ہیں۔، مختصر یہ کہ زندگی کے
بارے میں ہمارا ایک مخصوص نقطہ نظر ہے"۔
|
|
3- نظریہ پاکستان کی بنیاد وہ بنیادی اصول تھا
کہ مسلمان ایک آزاد قوم ہیں۔ ان کی قومی اور سیاسی شناخت کو ضم کرنے کی کسی بھی
کوشش کے خلاف شدید مزاحمت ہوگی۔
|
|
4- قائد اعظم انتہائی
مظبوط ایمان اور عقیدے والی شخصیت تھے۔ وہ بڑی سختی سے اس بات پر یقین رکھتے تھے
کہ نئی قائم ہوتی ہوئی ریاست پاکستان کی بنیاد اُن اسلامی اصولوں پر مبنی ہے جو
مکمل طور پر معاشرے کی اصلاح کریں گے۔ ستمبر 1945ء کو اپنے عید کے پیغام میں
قائد اعظم نے فرمایا:۔
"اسلام ایک
مکمل ضابطہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اجتماعی اور انفرادی طور پر تمام مسلم معاشرے کو منظم کیے ہوئے ہے"۔
|
|
5- آج قائداعظم کا پاکستان بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہم
بھول چکے ہیں کہ قائد اعظم کی متحرک قیادت میں مسلمانوں نے کتنی زیادہ جدوجہد کی
تھی۔ ہم قائد اعظم کے سنہری اصول،" ایمان،اتحاد اور تنظیم" کی پیروی
کر کے اپنی موجودہ مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے آپ کی نصیحت یاد
کرتے ہوئے ہم اپنی قوم کو مظبوط بنا سکتے ہیں کہ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ کام،کام اور کام
کرو؛ اس طرح ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔
|