April 27, 2024
Science Berg School
Unit_1 The
Saviour of Mankind

|
1۔ دھکتے سورج کی چمکدار شعاعوں
میں ،ریت کے ٹیلوں والے گمنام صحراؤں کےساتھ !عرب کی سر زمین بے مثال دلکشی اورخوبصورتی کی حامل ہے۔اس کا
ستاروں بھرا آسمان شاعروں اور سیاحوں کے تخیل کو خوش کر چکاہے۔یہ وہی سرزمین ہے
جس کے شہر مکہ میں نبی پاک ﷺپیدا ہوے
تھے۔جو کہ بحیرہ احمر سے تقریباً پچاس میل کے فاصلہ پرواقع ہے۔
|
|
2۔ عرب کے لوگ بڑی
شاندار یاداشت کے مالک اور بڑے خوش گفتار تھے۔ اُن کی خوش گفتاری اور یاداشت کاتاثر
اُن کی شاعری سے ملتا ہے۔ہر سال "عکاظ" کے مقام پر شاعری کے مقابلوں
کے لیے ایک میلہ منعقدہوتا تھا۔ایک روایت کے مطابق حماد نے خلیفہ ولید بن یزید
سے کہا کہ"میں آپ کو حروف تہجی کے ہر حرف کے لیے بغیر چھوٹےٹکڑوں کے ایک سو
طویل نظمیں سنا سکتا ہوں،جو اشاعت اسلام سے پہلے مخصوص شاعروں نے لکھی
ہیں"۔ یہ کوئی معمولی معجزہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حتمی پیغام
کوپھیلانے اور اپنے کلام(قرآن ِ پاک) کو محفوظ کرنے کے لیے عربی زبان کاانتخاب
کیا۔
|
|
3۔ پانچویں اور چھٹی
صدی میں انسانیت تباہی کے دھا نے پر کھڑی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ جس تہذیب کو
پروان چڑھنےمیں چار ہزارسال لگے تھے، اب وہ
بکھرنا شروع ہو چکی تھی۔ اس نازک وقت پر انسانیت کو جہالت سے نکال کر
ایمان کی روشنی میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُنہی (لوگوں) میں سے ایک
رسول کوپیدا کیا۔
|
|
4۔ جب حضرت محمد ﷺ کی عمر اڑتیس برس تھی تو آپ
ﷺ اپنا زیادہ تر وقت تنہائی اور توجہ( غوروفکر) میں گزاراکرتے تھے۔غار حِرا میں
آپ ﷺ کھانے پینے کے ساتھ (دنیا سے)
کنارہ کش ہو کر کئی دن اور ہفتے اللہ
تعالیٰ کی یاد میں گزارا کرتے تھے۔
|
|
5۔ انتظار کا وقت قریب
آ چکا تھا۔ آپ ﷺ کا دل انسانیت کی گہری ہمدردی سے لبریز تھا۔آپ ﷺ کی شدید خواہش
تھی کہ وہ (معاشرے سے)بد
اعتقادی،معاشرتی
برائیوں ،ظلم اور نا انصافی کو جڑھ سے
اُکھاڑ پھینکیں۔ وہ لمحہ آ پہنچا جب آپ ﷺ کو نبوت عطا ہونا تھی۔ایک دن جب آپ
غارِحِرا میں تھے،حضرت جبرائیل ؑ آئے
اور آپﷺ کو اللہ ذوالجلال کا
مندرجہ ذیل پیغام پہنچایا :
"پڑھ! اپنے
رب(آقا) کےنام سے جس نے پیدا کیا: پیدا کیا انسان کو خون کے لوتھڑے سے(جما ہوا
خون) پڑھ کہ تیرا رب بڑا ہی کریم ہے جس
نے قلم کا استعمال سکھایا اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا"۔
|
|
6۔ پیغام الٰہی کا وہ
سلسلہ الہام جو اگلے تئیس برس تک جاری
رہا، شروع ہو چکا تھا اور رسول ﷺ اللہ
کی واحدانیت(توحید)اورانسانی وحدت کا اعلان کرنے کے لیے کھڑے ہو چکے تھے۔
ان کامشن توہم پرستی ، جہالت اور کفر کے
سلسلے کوختم کرکےزندگی کا ایک عمدہ تصور مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کو ایمان کی روشنی اور نعمت الٰہی کی
طرف راغب کرنا تھا۔
|
|
7۔ چونکہ معاشرے میں اس عقیدے سے اُن(کفار) کے تسلط کو خطرہ تھا,
تو عرب کے کفار نے رسول ﷺ اور آپ کے پیروکاروں پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ (مسلمان) اپنا مقصد ترک
کردیں اور بت پرستی کو اپنا لیں۔ ایک
موقع پر اُنہوں نے نبی پاک ﷺ کے مہربان اور
شفیق چچا حضرت ابو طالب کے پاس
ایک وفدبھیجا۔ اُنہوں نے آپ ﷺ کے چچا کو کہا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلانے سے روکیں ورنہ اُن (کفار) کی دشمنی
کا سامنا کریں۔ اپنے آپ کو دو طرفہ مصیبت میں پا کر اُنہوں نے اپنے بھتیجے کو
بلایا اور تمام حالات سے آگا ہ کیا۔
رسول ﷺنے ان یادگار الفاظ میں جواب دیا:
" میرے پیارے چچا جان ! اگر وہ
لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو میں پھر بھی
اللہ تعالیٰ کی توحید کااعلان کرنے سے باز نہیں آ ؤں گا۔میں زمین پر ایک سچا
مذہب قائم کروں گا یا پھر اسی کوشش میں ختم ہو جاؤں گا۔
|
|
8۔ نبی پاک ﷺ کے چچا اپنے بھتیجے کے اس پختہ
عزم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اُنہوں نے جواب دیا :
"میرے
بھائی کے بیٹے اپنے راستے پر چلتے رہو، کسی کی جرت نہیں کہ وہ تمہیں چھوئے۔ میں
تمھارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا"۔
|
|
9۔ اور رسولﷺ اس راستے پر چل پڑے جو اللہ نے
آپﷺ کے لیے منتخب کیا تھا۔ پختہ عزم اور ابدی ہدایت سے
لبریز نبی پاک ﷺ نے تمام مصائب
کا مقابلہ بڑی عظمت اور وقار سے کیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپﷺ نے انسانوں کو
روحانی اوردنیاوی دونوں سطحوں پرممکنہ اعلیٰ ترین درجے پر پہنچا دیا۔ عربوں کی فتوحا ت جنہوں
نے انسانی تاریخ پر دیرپاتاثر پیدا کیا،اُن کے پیچھے بھی آپ ﷺ ہی اصلی طاقت تھے۔
کوئی شک نہیں کہ آپ ﷺ عالمی طور پر
تاریخ میں انتہائی با اثر شخصیت کے طور پر مشہور ہیں۔
|
|
ایک مشہور تاریخ دان "مائیکل ہارٹ"
کے الفاظ میں:
"اگرچہ اسلام کے عقائد اور
اس کے مذہبی اور اخلاقی دونوں اصولوں کو قائم کرنے میں محمد ﷺ ہی ذمہ دار ہیں۔
مزید یہ کہ نئےمذہب کی اشاعت اور مذہبی احکامات کو قائم کرنے میں آپﷺ نے بنیادی
کردار ادا کیا۔دراصل عربوں کی فتوحات میں بطور ِ اصلی طاقت ہونے کی وجہ سے آپﷺ
کا تمام وقتوں کےلیے انتہائی با اثر سیاسی راہنما ہونا درست ہے۔ساتویں صدی
کی عرب فتوحات نے انسانی تاریخ میں بڑا
اہم کردار اداکرنا شروع کیا جو آج تک
جاری ہے"۔
|